مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت گیر امیگریشن پالیسیوں کے خلاف عوامی ردعمل شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں ملک کے مختلف شہروں میں مظاہرے اور ہڑتالیں جاری ہیں۔ شدید سردی، برف باری اور تیز ہواؤں کے باوجود ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔
نیویارک میں مظاہرین نے یونین اسکوائر سے احتجاج کا آغاز کیا اور بعد ازاں شہر کی سڑکوں پر مارچ کیا۔ رپورٹ کے مطابق، مظاہرین امریکی امیگریشن حکام کی جانب سے حالیہ گرفتاریوں، بالخصوص ایک پانچ سالہ بچے کی حراست، پر شدید ناراضی کا اظہار کر رہے تھے۔
دوسری جانب، مینیسوٹا میں بھی بڑے پیمانے پر احتجاج دیکھنے میں آیا، جہاں ہزاروں افراد نے مارچ کیا اور سیکڑوں کاروباری اداروں نے ایک دن کے لیے ہڑتال کر دی۔ احتجاج کے دوران ایک سو پادریوں کو بھی گرفتار کیا گیا۔
سخت موسمی حالات کے باوجود مظاہرین نے واضح کیا کہ وہ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی کارروائیوں اور ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسیوں کو مسترد کرتے ہیں۔ بعض مقامات پر پولیس نے مظاہرین کو حراست میں بھی لیا، جن میں منیاپولس–سینٹ پال بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والی گرفتاریاں شامل ہیں۔
آپ کا تبصرہ